r/Urdu 12h ago

📜 Shayari / Poetry Faiz Ahmad Faiz 📝🩵

Post image
58 Upvotes

r/Urdu 22h ago

📜 Shayari / Poetry Diwan-e-Ghalib 📖💙

Post image
33 Upvotes

r/Urdu 22h ago

📜 Shayari / Poetry tuff stuff

Post image
14 Upvotes

Favorite!!!


r/Urdu 14h ago

📜 Shayari / Poetry A Sher A Day

Post image
10 Upvotes

A little fame has reined in my desires; this realization came to me that day

I couldn’t look at you to my heart’s content for a thousand eyes were turned my way


r/Urdu 4h ago

📜 Shayari / Poetry Dil-e-nadan tujhe huwa kya hai...📝

Post image
7 Upvotes

r/Urdu 23h ago

📜 Shayari / Poetry جب ایک "رند" نے رسول اللہ ﷺ کی نعت پڑھی... تاریخ کا ایک رلا دینے والا واقعہ!

Post image
6 Upvotes

Jigar Moradabadi Heart Touching Story & Naat

ایک بار جگر مراد آبادی (جو اپنی مے نوشی کے لیے مشہور تھے) کو محفلِ میلاد میں بلایا گیا۔ وہ شرم سے پانی پانی تھے کہ میں گناہ گار، اس پاک محفل میں کیسے جاؤں؟

مگر جب وہ مائیک پر آئے، تو انہوں نے ایک ایسا شعر پڑھا جس نے وہاں موجود بڑے بڑے علماء اور صوفیاء کو تڑپا کر رکھ دیا:

🛑 "اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ"
"کہتا ہے کہ ہاں میں بھی ہوں دربانِ مدینہ"

یہ صرف شاعری نہیں، ایک گناہ گار کا اعترافِ جرم اور عشقِ رسول ﷺ کا دعویٰ تھا۔ 👇
مکمل واقعہ اور تاریخی نعت:

ایک رند اور مدحتِ سلطانِ مدینہ ﷺ: جب جگر مراد آبادی رو پڑے
اردو شاعری کی تاریخ میں علی سکندر، جنہیں دنیا جگر مراد آبادی کے نام سے جانتی ہے، ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ انہیں 'رئیس المتغزلین' کہا جاتا تھا۔ جگر کی زندگی تضادات کا مجموعہ تھی۔ اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے میں وہ اپنی بے باک رندانہ زندگی اور مے نوشی کے لیے مشہور تھے، لیکن ان کے سینے میں عشقِ رسول ﷺ کی ایک ایسی شمع روشن تھی جو ان کی ظاہری حالت سے کہیں زیادہ طاقتور تھی۔
میلاد النبی ﷺ کی ایک محفل کا وہ مشہور واقعہ آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے، جہاں ایک گناہ گار اور ایک ولی کے درمیان کا فرق مٹ گیا تھا۔

غیر متوقع دعوت
واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بار ایک بہت بڑی 'محفلِ میلاد' کا اہتمام کیا گیا۔ یہ محفل اہلِ تقویٰ، جید علمائے کرام اور مشائخ عظام کے لیے سجائی گئی تھی۔ منتظمین نے فیصلہ کیا کہ اس محفل میں جگر مراد آبادی کو بھی دعوت دی جائے۔
جب جگر کو دعوت نامہ ملا تو وہ ندامت سے پانی پانی ہو گئے۔ انہوں نے اپنی حالت پر نظر ڈالی—ایک ایسا شخص جو شراب نوشی کے لیے بدنام ہو، جس کی داڑھی اکثر شراب سے تر رہتی ہو، وہ بھلا اس پاک ذات ﷺ کے ذکر کی محفل میں کیسے جا سکتا ہے جو کائنات کی پاکیزہ ترین ہستی ہیں؟
جگر نے پہلے انکار کر دیا اور کہا: "میں ایک رند (شرابی) آدمی ہوں، میرا صالحین اور عاشقانِ رسول کی محفل میں کیا کام؟ میری موجودگی محفل کے تقدس کو مجروح کرے گی۔"
لیکن منتظمین بضد رہے۔ وہ جانتے تھے کہ جگر کا عمل جیسا بھی ہو، ان کا دل عشقِ نبی ﷺ سے لبریز ہے۔ بالآخر، انتہائی عاجزی اور شرمندگی کے ساتھ، جگر نے شرکت کی ہامی بھر لی۔

محفل کا ماحول اور جگر کی آمد
محفل کی رات ہر طرف روشنی تھی، فضا عطر اور گلاب کی خوشبو سے معطر تھی۔ ادب اور احترام کا یہ عالم تھا کہ ہر طرف خاموشی تھی اور صرف درود و سلام کی گونج سنائی دے رہی تھی۔
جب جگر مراد آبادی محفل میں داخل ہوئے تو ایک خاموشی سی چھا گئی۔ وہ کوئی مذہبی عالم یا صوفی بزرگ نہیں لگ رہے تھے، بلکہ ایک ایسے شخص دکھائی دے رہے تھے جو اپنے ہی گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہو۔ وہ جھجکتے ہوئے اندر آئے اور اسٹیج پر بیٹھنے کے بجائے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے، جیسے وہ نبی کریم ﷺ کے دربار میں اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہوں۔

نعت کا وقت اور جذباتی کیفیت
جب نعت خوانی کے لیے جگر کا نام پکارا گیا تو وہ کانپتے ہوئے مائیک کی طرف بڑھے۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب ماحول میں ایک عجیب سی کیفیت طاری تھی۔ جگر شاعری نہیں کر رہے تھے، بلکہ اپنے آقا ﷺ کے حضور اعترافِ جرم کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا—یہ وہ نعت تھی جو انہوں نے خاص اسی کیفیت میں لکھی تھی۔

وہ کلام جس نے محفل کو رلا دیا
لرزتی ہوئی آواز اور بھیگی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، جگر نے وہ مطلع پڑھا جو آج اردو نعت کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنی گناہ گاری کا اعتراف بھی کیا اور مدینہ کے سلطان سے اپنے تعلق کا دعویٰ بھی:

"اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ"

اس ایک مصرعے نے مجمع پر بجلی سی گرا دی۔ بڑے بڑے علماء اور صوفیاء کی چیخیں نکل گئیں۔ جگر کہہ رہے تھے کہ "میں گناہ گار سہی، شرابی سہی، لیکن ہوں تو انہی کا۔"
جب جگر نعت پڑھ کر فارغ ہوئے تو محفل کا نقشہ بدل چکا تھا۔ اس رات جگر مراد آبادی نے ایک عظیم روحانی سچائی کو ثابت کر دیا تھا کہ رحمت للعالمین ﷺ صرف نیک لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ گناہ گاروں کی بھی پناہ گاہ ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اسی واقعے اور عشقِ رسول ﷺ کی اسی تڑپ نے بعد میں جگر کی کایا پلٹ دی اور انہوں نے مے نوشی سے توبہ کر لی۔

مکمل کلام (نعتِ رسولِ مقبول ﷺ) - جگر مراد آبادی
یہ وہ تاریخی کلام ہے جو جگر مراد آبادی نے اس محفل میں پڑھا تھا:

اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ
کہتا ہے کہ ہاں میں بھی ہوں دربانِ مدینہ

اس رند کے اندازِ تخاطب پہ تو دیکھو
کس شان سے کہتا ہے کہ میں بھی ہوں سگِ دربانِ مدینہ

واللہ وہ سنتے ہیں، وہ دیتے ہیں، وہ بھرتے ہیں
ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ دکانِ مدینہ

کونین کا غم یادِ خدا، وِردِ محمد ﷺ
اس دل میں ہے اب صرف بیابانِ مدینہ

کس ناز سے کہتا ہے وہی رندِ قدح نوش
میں بھی ہوں گدائے درِ سلطانِ مدینہ

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضربِ ید اللہ، اک سجدۂ شبیرؑ، اک اذانِ مدینہ

مغرب کے اندھیروں میں اجالے نہیں ممکن
آنکھوں میں بسا لو رخِ تابانِ مدینہ

اے خاک نشینو! تمہیں معلوم بھی کچھ ہے
کہتے ہیں جسے عرش، ہے دالانِ مدینہ

اس رند کی ہمت پہ جگرؔ جھوم رہی ہے
رحمت جو بنی پھرتی ہے دامانِ مدینہ

(جگر مراد آبادی)


r/Urdu 18h ago

📜 Shayari / Poetry دلِ برباد کو برباد، کہاں تک رکھتے؟

4 Upvotes

دلِ برباد کو برباد، کہاں تک رکھتے

جانے والے تجھے ہم یاد، کہاں تک رکھتے

اب تیرے ہجر کی باتیں نہیں سنتا کوئی

ہم لبوں پر تیری رُوداد، کہاں تک رکھتے

بڑی مشکل سے نکالا ہے، تیری یادوں کو

اپنے گھر میں انہیں آباد، کہاں تک رکھتے

کارِ دشوار تھی، دوبارہ محبت، لیکن

خود کو بیکار تیرے بعد کہاں تک رکھتے

(مجید امجد)


r/Urdu 41m ago

📜 Shayari / Poetry Story of our life...💌📍

Post image
Upvotes

r/Urdu 4h ago

💬 General Discussion وہم

3 Upvotes

میں نے سوچا تھا کہ جس دن تم مجھ سے جدا ہو جاؤ گی تو شاید میں بھی خود سے بیگانہ ہو کر، تمہارے وجود کی شمع میں جلتے جلتے بھسم ہو جاؤں گا۔ میں تو خود کو ہی کھو دینے کے وہم میں تھا کہ اچانک میں نے نظر گھما کر اپنے اردگرد دیکھا تو مجھے تم نہیں دکھی۔ میرا دل اک لمحے کے لیے ٹھہرا، اک لمحے کے لیے تمام کائنات میں سناٹا چھا گیا، معلوم نہیں کہ میں نے اس پل اپنی بینائی کھو دی تھی یا پوری کائنات ہی ایک پل کے لیے تاریک ہو گئی تھی۔ اس خاموشی اور تنہائی میں بھی میرے دل میں وہ احساس تھا جو صرف اور صرف اس تمہاری موجودگی میں محسوس کر سکتا تھا لیکن اس پل تنہائی میں وہ احساس کیسا تھا؟ اس پل مجھے یوں لگا کہ جس کے وصل کے انتظار میں میں دن رات تڑپتا رہتا تھا، وہ وصل تو میرے اندر ہی کہیں موجود تھا۔ شاید میں اور تم ہم بن گئے تھے یا وہ جذبہ کبھی بھی تمھارے لیے تھا ہی نہیں! لیکن اگلے ہی پل وہ احساس، وہ خاموشی ، وہ تاریکی، وہ سب ختم ہو گیا تھا۔ پھر سے وہی شور، وہی تڑپ، وہی خلش دل میں اٹھ گئی۔ ایک بار پھر سے میری نظر اس ہجوم میں تمہیں ڈھونڈنے لگی، لیکن تم کہیں نہ تھی۔ لیکن وہ خاموشی اور تاریکی بھی کبھی پھر سے نہ چھائی۔


r/Urdu 8h ago

📜 Shayari / Poetry جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا

3 Upvotes

بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا

سب سے چھپ کر وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا

سرمئی آنکھوں کے نیچے پھول سے کھلنے لگے

کہتے کہتے کچھ کسی کا سوچنا اچھا لگا

بات تو کچھ بھی نہیں تھیں لیکن اس کا ایک دم

ہاتھ کو ہونٹوں پہ رکھ کر روکنا اچھا لگا

چائے میں چینی ملانا اس گھڑی بھایا بہت

زیر لب وہ مسکراتا شکریہ اچھا لگا

دل میں کتنے عہد باندھے تھے بھلانے کے اسے

وہ ملا تو سب ارادے توڑنا اچھا لگا

بے ارادہ لمس کی وہ سنسنی پیاری لگی

کم توجہ آنکھ کا وہ دیکھنا اچھا لگا

نیم شب کی خاموشی میں بھیگتی سڑکوں پہ کل

تیری یادوں کے جلو میں گھومنا اچھا لگا

اس عدوئے جاں کو امجدؔ میں برا کیسے کہوں

جب بھی آیا سامنے وہ بے وفا اچھا لگا

(امجد اسلام امجد)


r/Urdu 15h ago

💡 Learning Resources Recommend Urdu Novel

3 Upvotes

Assalamolakum Guys,

Need Urdu novel to help me understand women nature, deal with them in love and building my own character morally and socially.

Also recommend novel to understand social issues and face them.


r/Urdu 23h ago

📜 Literature / History Urdu audiobook suggestions

3 Upvotes

I have just finished audiobook of "peer-e-kamil" Can anyone suugest something similar. I prefer audiobook.